عید کے بعد مسجدیں کیوں خالی ہو جاتی ہیں؟ — ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ان تمام مسلمانوں کے روزوں، قیام، تلاوت، صدقات اور دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ان کی زندگیوں کو حقیقی خوشیوں اور سکون سے بھر دے۔ آمین۔
رمضان المبارک بلاشبہ ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جو مسلمانوں کی زندگیوں میں ایک روحانی انقلاب لے آتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں نہ صرف عبادت کی طرف مائل کرتا ہے بلکہ ہمیں نظم و ضبط، صبر، تقویٰ اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا درس بھی دیتا ہے۔ اس مہینے کی سب سے نمایاں خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ بھی مسجد کا رخ کرتے ہیں جو عام دنوں میں شاید ہی نظر آتے ہوں۔
رمضان المبارک میں مسجدوں کی رونق
یہ منظر نہایت خوشگوار اور ایمان کو تازہ کرنے والا ہوتا ہے۔ صفوں کا بھر جانا، بچوں کا شوق سے آنا، بڑوں کا جھک کر عبادت کرنا—یہ سب دل کو سکون دیتے ہیں اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم بحیثیت امت ابھی بھی خیر پر قائم ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ تبدیلی مستقل ہوتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں جوش و جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے دن گزرتے ہیں، یہ جوش آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر عید کا دن آتا ہے، جس میں تقریباً پورا معاشرہ نمازِ عید کے لیے اکٹھا ہوتا ہے۔ 100 میں سے 90 یا 95 افراد مسجد یا عیدگاہ میں موجود ہوتے ہیں۔
مگر افسوس، یہ منظر زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا۔
عید کے اسی دن شام سے ہی مسجدوں کی رونق کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگلے ہی دن تعداد 20 یا 25 رہ جاتی ہے، پھر 15، اور کچھ دنوں بعد دوبارہ وہی 10 افراد باقی رہ جاتے ہیں جو رمضان سے پہلے بھی پابندی سے آتے تھے۔
یہ اچانک کمی، یہ یکدم زوال—یہ واقعی ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
(سورۃ النساء: 103)
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ نماز صرف رمضان کے لیے نہیں بلکہ پورے سال، ہر دن، ہر وقت ہمارے لیے فرض ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
(سورۃ الذاریات: 56)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد عبادت ہے، نہ کہ صرف ایک مہینے کی وقتی نیکی۔ نبی کریم ﷺ نے بھی نماز کی اہمیت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(ترمذی)
یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ نماز ہماری کامیابی یا ناکامی کی بنیاد ہے۔ اسی طرح اخلاص کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(صحیح مسلم)
اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر عبادت میں دکھاوا (ریا) شامل ہو جائے تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔ یہاں ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا رمضان میں ہماری عبادات خالص اللہ کے لیے ہوتی ہیں یا ہم معاشرے کے اثر میں آ کر بھی عبادت کرتے ہیں؟
ایک اور اہم حدیث جو مستقل مزاجی کی ترغیب دیتی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس نے چالیس دن تک باجماعت نماز اس طرح ادا کی کہ پہلی تکبیر (تکبیرِ اولیٰ) نہ چھوٹے، اس کے لیے دو براءتیں لکھ دی جاتی ہیں: جہنم سے نجات اور نفاق سے نجات" (ترمذی)
یہ کتنی بڑی خوشخبری ہے! صرف 40 دن کی مستقل مزاجی انسان کی زندگی بدل سکتی ہے۔ یہاں ایک عملی نکتہ بہت اہم ہے: جو شخص رمضان میں 30 دن مسلسل نماز پڑھ سکتا ہے، وہ اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ یہ عمل جاری رکھ سکتا ہے۔ بس ضرورت ہے نیت، عزم اور تھوڑی سی محنت کی۔
ذاتی تجربہ بھی یہی کہتا ہے کہ اگر انسان رمضان میں دل سے یہ نیت کر لے کہ:
"میں اب نماز نہیں چھوڑوں گا، میں اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھوں گا"
تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مضبوط کر دیتا ہے، اور پھر نماز چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ صلاحیت کا نہیں، بلکہ مستقل مزاجی (Consistency) کا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عبادت کوئی سیزنل چیز نہیں ہے۔ یہ کوئی ایسا عمل نہیں کہ صرف رمضان میں کیا جائے اور پھر چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ یہ ہماری زندگی کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔
دوسرا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ ہم رمضان کے بعد کم از کم 10 دن مزید اسی روٹین کو برقرار رکھیں، تاکہ یہ عادت مضبوط ہو جائے۔ خاص طور پر کوشش کریں کہ نماز باجماعت اور تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ ادا کریں۔
تیسرا، اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی ساتھ شامل کریں۔ اپنے دوستوں، بھائیوں اور گھر والوں کو مسجد لے کر جائیں۔ ایک دوسرے کو یاد دہانی کروائیں۔
سوچیں، اگر ہر نماز میں مسجد ویسی ہی بھری ہو جیسی عید کے دن ہوتی ہے—تو ہمارا معاشرہ کتنا خوبصورت بن جائے گا۔ وہی سکون، وہی اتحاد، وہی روحانیت—جو ہمیں رمضان میں محسوس ہوتی ہے—اگر پورا سال رہے تو ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور سکتی ہیں۔
🤲 آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے:
یا اللہ! ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرما، ہماری عبادات کو قبول فرما، ہمیں نماز کا پابند بنا، اور ہمیں استقامت عطا فرما کہ ہم رمضان کے بعد بھی تیری عبادت پر قائم رہیں۔ آمین۔
اگر آپ یہاں تک یہ تحریر پڑھ چکے ہیں تو ایک چھوٹی سی درخواست ہے:
آج ہی نیت کریں کہ نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے، مسجد سے تعلق جوڑیں گے، اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں گے۔
اور آخر میں گزارش ہے کہ اپنے بھائی ارسلان تارڑ کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
0 تبصرے