"سوشل میڈیا پر انسانیت کی پوسٹس، لیکن حقیقت میں دلوں کی بےحسی، آخر کیوں؟"
تحریر: ارسلان تارڑ
---
یار کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم لوگ کدھر جا رہے ہیں؟ سوشل میڈیا پر ہر دوسرا بندہ فلاسفر بنا بیٹھا ہے۔ کوئی کوٹ لگاتا ہے: "انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے", تو کوئی پوسٹ کرتا ہے: "کسی کا دل نہ دکھاؤ، پتہ نہیں وہ کس حال میں ہے"۔
لیکن جب سامنے کوئی شخص مدد مانگتا ہے - وہی انسان جس کے لیے ہم نے story لگائی تھی تو ہم صرف "seen" کر کے آگے نکل جاتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم نے دکھاوے کو انسانیت سمجھ لیا ہے۔ ہم چاہیں تو کسی کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن نہیں کرتے، کیونکہ "ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے؟"
ہاں، پوسٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ کہیں، واہ! کیا سوچ ہے،کتنا اچھا انسان ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
ایک بندہ روڈ پر بیٹھا بھوک سے رو رہا ہو، تو ہم اس کے ساتھ selfie لے کر لکھتے ہیں:
"Help the poor, be kind."
لیکن help؟ وہ تو ہم نے کی ہی نہیں، بس picture سے کام چلا لیا۔
انسانیت اب story کی حد تک رہ گئی ہے، reel میں filter لگا کر دکھانے کی چیز بن چکی ہے۔
اور سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہمیں لگتا ہے ہم "واقعی" اچھے لوگ ہیں کیونکہ ہم نے کچھ "شیئر" کر دیا۔
یار سچ بات یہ ہے کہ انسانیت کا کوئی like، share یا comment نہیں ہوتا۔
انسانیت تب ہے جب کسی کی مدد کر کے تم کسی کو بتاؤ بھی نہ۔
انسانیت تب ہے جب تم کسی کو گرا ہوا دیکھ کر ہاتھ بڑھاؤ، نہ کہ ویڈیو بناؤ۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم واقعی انسان ہیں یا بس دکھاوا کرنے والے کریکٹز، جن کا دل صرف تب دھڑکتا ہے جب notification آتا ہے۔
---
سوشل میڈیا پر انسانیت کی ایکٹنگ کرنا بہت آسان ہے،
اصل انسان تو وہ ہے جو خاموشی سے کسی کا درد بانٹ لے۔
اخر میں بس میں یہی کہنا چاہوں گا کہ خدارا دکھاوے یا سوشل میڈیا کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کی مدد کریں دوسروں کے کام ائیں ان کے دکھ،خوشی اور غم میں شریک ہوں۔

0 تبصرے