"معاشرہ مدد سے نہیں، الزام سے ڈرتا ہے – دو بچے نہر میں ڈوب گئے اور لوگ دیکھتے رہے!" (دل دہلا دینے والا واقعہ)
تحریر:- ارسلان تارڑ
حال ہی میں ایک بڑا ہی افسوسناک واقعہ ہوا ہمارے قریبی علاقے میں۔۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ واقعہ بالکل ایگزیکٹ جیسے مجھ تک پہنچا صحیح ہے یا نہیں صحیح لیکن ہمارے معاشرے کی حقیقت کو بیان کر رہا ہے واقعہ کچھ یوں ہے کہ دو چھوٹے چھوٹے بچے، بس 5 یا 6 سال کی عمر کے ہوں گے، گھر سے کھیلنے نکلے تھے، سائیکل لے کے۔ کھیلتے کھیلتے وہ نہر کے پاس جا پہنچے کیونکہ نہر ان کے گھر کے قریب ہی تھی،کھیلنے کے دوران شاید سائیکل گندی ہو گئی تو ایک بچہ سائیکل کو پکڑ کے کھڑا ہو گیا اور دوسرا نہر سے پانی نکال کے دھونے لگا۔
اچانک وہ بچہ پھسل کے نہر میں جا گرا، دوسرے بچے نے اس کو بچانے کے لیے پکڑنے کی کوشش کی تو وہ بھی نہر میں جا گرا۔ وہیں پاس میں تھوڑا دور دو بندے کام کر رہے تھے جنہوں نے یہ منظر دیکھا اور وہ جو دو بندے دور سے دیکھ رہے تھے، انہوں نے آگے بڑھنے کی بجائے بس ایک دوسرے کی شکل دیکھنی شروع کر دی۔ صرف اس ڈر سے کہ اگر ہم گئے اور بچے پہلے سے مرے ہوئے نکلے تو لوگ ہمیں مجرم نہ سمجھ لیں۔۔۔
تھوڑی دیر بعد بچوں کا چچا وہاں پہنچا، اس نے جب دیکھا تو اس نے نہر میں چھلانگ لگا دی اور بچوں کو باہر نکال دیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ یہ واقعہ سن کے دل ہل گیا، یار!
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں؟ کیا انسانیت اتنی سستی ہو گئی ہے کہ الزام کے ڈر سے ہم مرنے والے کو بھی نہ بچائیں؟ ایک وقت تھا جب لوگ جان کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی مدد کرتے تھے، اور آج؟ ہم بس تماشائی بن چکے ہیں۔
یہ بلاگ میں صرف اس لیے لکھ رہا ہوں کہ شاید کہیں کسی کا ضمیر جاگ جائے۔ شاید کسی دن، کسی کا دل اتنا مضبوط ہو کہ وہ الزام کے ڈر سے نہ رکے، بلکہ انسانیت کے نام پر قدم اٹھائے۔ کیونکہ کل کو یہ واقعہ ہمارے اپنے ساتھ بھی ہو سکتا ہے…
دیکھیں، ایک بات ماننی پڑے گی کہ کہیں نہ کہیں وہ دو لوگ بھی غلط نہیں تھے۔ کیونکہ سچ بتاؤں، ہمارے معاشرے میں یہ ایک طرح کا کلچر بن چکا ہے۔ اگر کوئی بندہ کسی کی مدد کرے، یا کسی مشکل وقت میں کسی کو سپورٹ بھی کر دے، تو اُلٹے سوال اسی سے شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس نے بچایا، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ "تم وہاں کیوں تھے؟"، "نہر میں گئے کیوں تھے؟"، "تمہیں کیسے پتا چلا؟"، "تم وہاں پہنچے کیسے؟" وغیرہ وغیرہ۔
اب جب ایسے فضول اور بے وجہ کے سوالات ایک مدد کرنے والے سے ہی کیے جائیں گے، تو بندہ ظاہر ہے ڈر جائے گا۔ یہی ڈر ہمارے معاشرے میں بیٹھ چکا ہے۔ اور یہ ڈر کسی اور نے نہیں، ہم نے خود پیدا کیا ہے۔ کیونکہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں پہ شک کرنے لگے ہیں، بغیر ثبوت الزام لگا دیتے ہیں، اور کسی کی نیت جانے بغیر اُس کی نیت پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔
آخر میں بس اتنی سی بات کہنا چاہوں گا کہ انسانیت صرف دعووں سے نہیں، عمل سے پہچانی جاتی ہے۔ ہم نے اگر ہر وقت یہی سوچنا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، الزام مجھ پر تو نہیں آ جائے گا، تو پھر کل کو کوئی کسی کی مدد نہیں کرے گا۔ اور اگر ہم اسی طرح ڈرتے رہے، تو کل ہمارے اپنے بھی اس خوف کا شکار ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر سے یہ ڈر نکالیں۔ اور اگر واقعی کسی کی جان بچانے کا موقع ملے، اور اپ کو لگتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں یعنی کسی کی جان بچا سکتا ہوں یا کسی کی مدد کر سکتا ہوں تو بس اتنا سوچیں کہ ایک انسان ہے، ایک جان ہے… جو بچائی جا سکتی ہے۔ باقی جو ہوگا، وہ بعد کی بات ہے۔ کیونکہ اگر نیت صاف ہو، تو پھر اللہ بھی ساتھ دیتا ہے، اور سچ بھی خود بولتا ہے۔
اور ایک بات ان لوگوں کے لیے بھی جو خود متاثر ہوتے ہیں یا جن کے اپنے کسی حادثے کا شکار ہو جائیں۔یار بس یہ کہوں گا کہ الزام لگانے سے پہلے تھوڑا سوچ لیا کرو۔ ہر بندہ بُرا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی واقعی نیت سے مدد کرنے گیا ہو، تو اس سے الٹے سوال مت کرو، اس پہ شک مت کرو، بلکہ تھوڑا تحقیق کرو، انویسٹیگیٹ کرو، سمجھو، پرکھو، تب جا کے بات کرو۔ ورنہ کل کو کوئی اور کسی کی مدد کرنے سے پہلے دس بار سوچے گا، اور ہو سکتا ہے وہ دس سیکنڈ کی دیر کسی کی جان لے لے۔
معاشرہ تب بدلے گا، جب ہم خود بدلنے کی کوشش کریں گے۔ الزام سے نہیں، انسانیت سے جینا سیکھیں۔
والسلام۔
0 تبصرے