آج کل کے نوجوان دین سے دور کیوں ہیں؟ اصل وجہ اور حل جانیے!
تحریر: ارسلان تارڑ
اکثر لوگ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ آج کل کے نوجوان دین سے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ لیکن اگر ہم خود سے یہ سوال کریں کہ ہم نے انہیں دین کے قریب لانے کے لیے کیا کیا ہے تو شاید ہم خاموش ہو جائیں!
میں ایک بات ذاتی تجربے سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ جب کوئی چھوٹا بچہ، پانچ، چھ یا سات سال کا، مسجد میں نماز پڑھنے آتا ہے اور پہلی صف میں جا کر بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہاں پہلے سے بیٹھے لوگ فوراً اسے جھڑک دیتے ہیں۔
"اوئے! تو یہاں کیسے آ گیا؟ چل، پچھلی صف میں جا!"
یا پھر:
"بائیں طرف جا کر نماز پڑھ، تیرے جیسے بچے یہاں نہیں بیٹھتے یہ جگہ بڑوں کے لیے ہے!"
اب آپ خود سوچیں، اس بچے کے دل میں کیسا تاثر جائے گا؟ وہ بچہ جو شوق سے مسجد آیا تھا، اسے یوں جھڑک دیا جائے تو وہ کیا محسوس کرے گا؟ اُس کے دل میں ایک خوف بیٹھ جاتا ہے کہ اگر میں مسجد میں پہلی صف میں گیا، یا بڑوں کے ساتھ کھڑا ہوا تو مجھے ڈانٹ پڑے گی، مار پڑے گی، یا بےعزتی ہو گی۔
یہی سوچ، یہی مینٹلٹی بچپن سے ہی بچے کے دماغ میں بیٹھ جاتی ہے اور بڑا ہو کر بھی وہ بچہ مسجد کے قریب نہیں جاتا۔ کیونکہ اس کے اندر ایک تصور بن چکا ہوتا ہے کہ مسجد کا ماحول سخت، بےرحم اور جھڑکنے والا ہے۔
اور یہ صرف پہلی صف کی بات نہیں ہے، کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھا ہے کہ اگر کوئی چھوٹا بچہ مسجد میں آ جائے اور اُس کے کپڑے گندے ہوں یا وضو مکمل نہ ہو، پاؤں گندے ہوں تو بجائے اُسے پیار سے سمجھانے کے، کچھ لوگ فوراً کہتے ہیں:
"اوئے، ادھر کیوں آ گیا؟ تیرے پاؤں دیکھ، گندے ہیں! باہر جا!"
ارے بھائی، اگر بچہ ناسمجھی میں غلطی کر رہا ہے تو اسے پیار سے سمجھایا جائے۔ کہا جائے:
"بیٹا، وضو کر کے آؤ، پاؤں دھو لو، پھر نماز پڑھو۔"
نہ کہ اُسے ایسے جھڑک کر مسجد سے بھگا دیا جائے کہ اُس کے دل میں یہ بیٹھ جائے کہ جب کوئی اسے کہے کہ اؤ مسجد چلیں تو وہ اگے سے کہے:
"مسجد نہیں جانا، بابے ماردے نے!"
جی ہاں، یہی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ اور یہی وہ بنیاد بن جاتی ہے کہ بڑے ہو کر بھی نوجوان مسجدوں سے دور ہو جاتے ہیں۔
جب چھوٹا بچہ مسجد آئے اور اُسے محبت ملے، خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا جائے، اگر کوئی غلطی کرے تو نرمی سے سمجھایا جائے — تب جا کے وہ بچہ دین سے جُڑتا ہے۔ اُسے مسجد ایک پُر سکون اور اپنائیت بھری جگہ لگتی ہے۔
اور اگر ہم سیرت النبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پر نظر ڈالیں، تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک نظر آتا ہے۔ آپ کے نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما مسجد میں آپ کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں پر سوار ہو جایا کرتے، لیکن آپ نے کبھی اُنہیں جھڑکا نہیں، بلکہ نرمی اور محبت کا سلوک فرمایا۔ تو ہم کون ہوتے ہیں جھڑکنے والے؟
آخر میں، میں اُن تمام بزرگوں، بھائیوں اور مسجد جانے والوں سے مؤدبانہ گزارش کروں گا کہ برائے مہربانی بچوں کو مسجدوں سے نہ بھگائیں، انہیں جھڑکنے کے بجائے پیار سے سمجھائیں، اُن کی غلطی کو معاف کریں، اور اُنہیں دین کے قریب آنے دیں۔
کیونکہ اگر ہم نے انہیں آج محبت دی، تو وہ کل دین کے سچے پیروکار بنیں گے۔ اور اگر آج انہیں دھتکار دیا، تو کل وہ مسجد کے دروازے سے بھی گزرنے سے کترائیں گے۔
یاد رکھیں کہ بچہ مار سے نہیں پیار سے سمجھتا ہے!
والسلام
0 تبصرے