کیا دین پر بحث کرنا گناہ ہے؟ – جو جہاں لگا ہے، اسے وہیں رہنے دو کا نظریہ

کیا دین پر بحث کرنا گناہ ہے؟ – جو جہاں لگا ہے، اسے وہیں رہنے دو کا نظریہ

کیا دین پر بحث کرنا گناہ ہے؟ – 'جو جہاں لگا ہے، اسے وہیں رہنے دو' کا نظریہ

✍️ تحریر: ارسلان تارڑ

میں نے دیکھا ہے کہ آج کل ایک نظریہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، کہ دینی معاملات میں آپس میں بحث مت کرو، کسی کو کچھ نہ کہو، جس کو جو سمجھ آیا ہے اسے اسی پر رہنے دو۔ بعض لوگ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ "اللہ کا دین ہے، اس پر بحث نہ کرو" یا "بحث کرو گے تو دین کا مذاق بن جائے گا۔ یہ اچھی چیز نہیں ہے، بحث کرنا بے وقوفوں کا کام ہے۔"

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسلام ہمیں خاموشی کا حکم دیتا ہے؟ کیا اگر کوئی بندہ غلطی پر ہو، تو ہم اسے اسی حال میں چھوڑ دیں؟ کیا یہی دین کی تعلیم ہے؟

حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے، بلکہ اصلاح کا بھی دین ہے۔ دین ہمیں صرف خود نیک بننے کا نہیں، بلکہ دوسروں کو بھی بھلائی کی طرف بلانے کا حکم دیتا ہے۔

قرآن پاک میں سورۃ آل عمران کی آیت 104 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ"

ترجمہ: "تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے، اور برائی سے روکے، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔"

یہ آیت ہمیں صرف دعوت دینے کا نہیں بلکہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بھی حکم دیتی ہے۔ اگر ہم صرف خاموش تماشائی بنے رہیں تو پھر حق و باطل میں فرق کرنے والا کون ہوگا؟

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور فرمان ہے:

"من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان" (صحیح مسلم)

ترجمہ: "تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔"

اب بتائیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زبان سے برائی روکنے کا حکم دے رہے ہیں تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بحث نہ کرو؟ یاد رکھیں، یہاں "بحث" سے مراد علمی اور مہذب انداز میں بات کرنا ہے، نہ کہ لڑائی جھگڑا۔ اس کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آپ دوسروں سے لڑائی جھگڑا کرنا شروع کر دیں بلکہ ایک مہذب طریقے سے ایک دوسرے کی اصلاح کے لیے علمی بحث کریں۔

اگر بحث نہ کرنا ہی دین ہوتا تو ذرا سوچیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کیوں بھیجتے؟ وہ انبیاء جنہوں نے قوموں کے درمیان کھڑے ہو کر برائیوں کی مخالفت کی، دلائل دیے، لوگوں کو سمجھایا، یہاں تک کہ گالیاں سنیں، ماریں کھائیں، لیکن حق بات کہنا نہیں چھوڑا۔

لہٰذا، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ "جو جہاں لگا ہے، اسے وہیں رہنے دو"، وہ دراصل دعوتِ دین اور اصلاحِ امت کی بنیادی روح سے غافل ہیں۔ اسلام ہمیں خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ علم، حکمت، اور حسنِ اخلاق کے ساتھ بات کرنے، سمجھانے، اور اختلاف پر دلیل سے بات کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اگر کوئی غلطی کر رہا ہے تو اسے مہذب انداز میں سمجھائیں، اسے بتائیں کہ یہ آپ غلط کر رہے ہو، اسلام میں یہ چیز جائز نہیں، آپ کو یہ عمل نہیں کرنا چاہیے، وغیرہ۔

لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کے پاس کسی چیز کے بارے میں علم نہیں ہے تو اس پر آپ نے بحث نہیں کرنی بلکہ آپ نے اگلے بندے کو بتا دینا ہے کہ "یار، فی الحال مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، میں قرآن و حدیث کا مطالعہ کروں گا اور ان شاءاللہ جو آپ فرما رہے ہیں اس بارے میں ضرور سیکھوں گا۔"

اگر آپ کے اردگرد، آپ کے سرکل یا دوستوں میں کسی کا ایسا نظریہ ہے، کہ "جو جہاں لگا ہے اسے وہیں لگا رہنے دو"، تو اس بلاگ کو ضرور ان تک پہنچائیں تاکہ ان کی بھی اصلاح ہو سکے اور دین کو خاموشی کے پردے میں دبنے سے بچایا جا سکے۔

دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔۔ والسلام

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے