بار بار گناہ کرنے کے بعد شرمندگی، توبہ۔۔ اور پھر وہی گناہ — آخر کیوں؟

بار بار گناہ کرنے کے بعد شرمندگی، توبہ۔۔ اور پھر وہی گناہ — آخر کیوں؟

بار بار گناہ کرنے کے بعد شرمندگی، توبہ۔۔ اور پھر وہی گناہ — آخر کیوں؟

✍️ تحریر:- ارسلان تارڑ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آج میں آپ کے سامنے ایک ایسا مسئلہ رکھنے جا رہا ہوں جو آج کے ہر نوجوان، بلکہ ہر انسان کو درپیش ہے۔ ہم سب زندگی میں کسی نہ کسی گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جب گناہ سرزد ہوتا ہے تو ضمیر ملامت کرتا ہے، دل شرمندہ ہوتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں، سچے دل سے توبہ کرتے ہیں اور عزم کرتے ہیں کہ اب یہ کام دوبارہ نہیں کریں گے۔

لیکن... پھر کیا ہوتا ہے؟

چند دن یا کبھی چند گھنٹے بعد ہم دوبارہ اسی گناہ میں جا پڑتے ہیں۔ دل پھر شرمندہ ہوتا ہے، پھر معافی مانگی جاتی ہے، پھر وہی توبہ، اور پھر وہی گناہ! آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا ہم واقعی سچے دل سے توبہ نہیں کرتے؟ کیا اللہ ہمیں معاف نہیں کرتا؟ یا پھر کوئی اور وجہ ہے؟

آئیے ہم سب سے پہلے تو اس مسئلے کی اصل جڑ کو سمجھتے ہیں۔

پہلی اور بڑی وجہ:

سب سے پہلی اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہم "ماحول" کو تبدیل نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی نے کسی برے عمل یا گناہ کی شروعات اپنے دوست کی صحبت میں کی، تو توبہ کے بعد بھی وہ اسی دوست کی محفل میں جانا بند نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی ماحول، وہی لوگ، اور وہی گفتگو اُسے دوبارہ اسی گناہ کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔

مثال: فرض کریں آپ کا ایک دوست سگریٹ نوشی کرتا ہے۔ آپ نے اس کے کہنے پر ایک دن سگریٹ پی، پھر رات کو ندامت ہوئی، اللہ سے معافی مانگی، دل سے ارادہ کیا کہ دوبارہ نہیں پیوں گا۔ لیکن اگلے دن وہی دوست، وہی دعوت، اور وہی انداز — " آپ کا دوست آپ کو کہتا ہے کہ یار اج میرے کہنے پر پی لو کچھ نہیں ہوتا ایک دو کش ہی تو ہے اور آپ پھر وہی حرکت کر بیٹھتے ہو۔

یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک آپ ماحول نہیں بدلتے۔

حل کیا ہے؟

1. ماحول سے خود کو نکالیں:
جس محفل، جس دوست، جس جگہ پر آپ گناہ کی طرف مائل ہوتے ہیں، اس جگہ سے خود کو دور کریں۔ ماحول کا اثر سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، چاہے نیت کتنی بھی مضبوط ہو لہذا جس دوست کی وجہ سے یا جس جگہ پر اپ غلط کام کی طرف مائل ہوتے ہیں اس کو بدلیں اور اللہ تعالی سے سچے دل سے معافی مانگیں۔

2. اللہ سے مسلسل تعلق:
صرف ایک بار کی توبہ کافی نہیں، بلکہ نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت، اور نیک لوگوں کی صحبت سے دل کو مضبوط کریں۔ جب دل اللہ سے جڑ جاتا ہے تو گناہ کی کشش کمزور پڑ جاتی ہے۔ کیونکہ جب انسان اللہ تعالی سے جڑ جاتا ہے تو اسے ایک خوف رہتا ہے اللہ تعالی کا کہ اگر میں یہ کام کروں گا تو مجھے گناہ ملے گا اللہ تعالی کو ناپسند ہے اسلام میں جائز نہیں اس لیے پانچ وقت کی نماز کی پابندی کریں قران پاک کی تلاوت کریں اور باقاعدگی سے صبح و شام کے اذکار کیا کریں صبح و شام کے اذکار کرنے سے بندہ اللہ تعالی کی حفاظت میں ا جاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ رہتا ہے اس لیے صبح اور شام کے اذکار کو بھی اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کریں۔

3. اپنے لیے متبادل تلاش کریں:
اگر آپ کسی گناہ کی عادت سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس کا کوئی مثبت متبادل تلاش کریں۔ مثلاً اگر فارغ وقت میں غلط چیزوں میں لگ جاتے ہیں تو اس وقت کو کسی فائدے مند سرگرمی میں لگائیں مطلب اپ دیکھتے ہیں کہ جو آپ گناہ چھوڑنا چاہتے ہیں یا جو برا کام آپ چھوڑنا چاہتے ہیں وہ آپ اکثر فارغ وقت میں کرتے ہیں یا جس میں بھی وقت میں کرتے ہیں اس وقت میں کوئی اچھی ایکٹیوٹی کرنا سٹارٹ کر دیں کچھ نیا سیکھنا سٹارٹ کر دیں مطلب یہ کہ خود کو دوسرے کاموں میں مصروف رکھیں تاکہ اپ کو اس گناہ یا اس برے کام کا خیال بھی نہ ائے۔

آخر میں:

میری یہ بات یاد رکھیں! توبہ صرف زبان سے الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ ایک حقیقی ارادہ اور عمل کا نام ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے گناہوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو صرف ندامت کافی نہیں — ہمیں اپنی سوچ، عادت، اور ماحول کو بھی بدلنا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے ، اور ہمارے دلوں کو گناہوں سے پاک کر دے۔ آمین!

والسلام

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے