بسم اللہ الرحمن الرحیم
✍️ تحریر:- ارسلان تارڑ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی زندگیوں میں ایک نمایاں جگہ بنا لی ہے۔ ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں کو دنیا کے مختلف کلچرز، رجحانات، اور زندگی کے انداز سے روشناس کراتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ کچھ منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں کا غلط رول ماڈلز کو اپنانا اور وائرل کلچر کی تقلید کرنا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے نہ صرف نوجوانوں کی ذاتی زندگیوں بلکہ پورے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
غلط رول ماڈلز: کیا اور کیوں؟
غلط رول ماڈلز وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی یا رویوں کو ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کے منافی ہو، لیکن وہ خود کو نوجوانوں کے لیے مثال یا آئیڈیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
خاص طور پر آج کل کئی فیملی بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز ایسے ہیں جو اپنی ذاتی زندگی کے معاملات، بیہودہ برتاؤ یا غیر اسلامی رویوں کو کھل کر دکھاتے ہیں۔
حتی کہ اپنے گھریلو اور پرائیویٹ معاملات کو بھی سوشل میڈیا پر نمایاں کر دیتے ہیں اور نوجوان ان کی تقلید کرکے اپنی زندگی میں مسائل لے آتے ہیں، جن میں ذہنی، اخلاقی اور سماجی پریشانیاں شامل ہیں۔
وائرل کلچر کی تباہ کاری
وائرل کلچر کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان اپنی زندگی کو ان بیہودہ انفلنسز کی طرح صرف اس لیے ڈھالتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ فالورز اور لائکس حاصل کر سکیں۔ اس عمل میں وہ اپنی اصل شناخت، ثقافت اور مذہب کو بھول جاتے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں نیوڈٹی، بے حیائی اور اخلاقی زوال کی لہر دوڑتی ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اس چیز کو روکا نہ گیا تو یہ ہماری انے والی نسلوں کو تباہ و برباد کر دے گا
:تحقیقی حوالہ جات
میں سائیکولوجیکل ریسرچز پڑھ رہا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، نوجوانوں میں غیر حقیقی زندگی کے ماڈلز کی پیروی کرنے کی وجہ سے خود اعتمادی کم ہوتی ہے اور وہ اداسی اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہماری ینگ جنریشنز کے جو گارڈینز ہیں والدین ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان کو ایسے کاموں کی طرف جانے سے روکیں
والدین اور گارڈینز کے لیے رہنمائی
والدین اور سرپرستوں کا کردار اس معاملے میں انتہائی اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے رویوں اور سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں، اور ان سے بات چیت جاری رکھیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر والدین یا سرپرست اس معاملے پر صحیح طرح سے نگرانی کریں تو ہماری انے والی نسلیں اور یہ معاشرہ اس کی فضول اور واحیات چیزوں سے بچ سکتا ہے
بچوں کو سمجھائیں کہ سوشل میڈیا اور حقیقت میں فرق ہوتاـــ ہے۔
•ایسے ویلاگرز اور انفلوئنسرز سے دور رہنے کی ہدایت دیں جو غیر اخلاقی مواد پیش کرتے ہیں۔
•بچوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں مشغول رکھیں تاکہ ان کی توجہ منفی چیزوں سے ہٹ جائے۔
•اگر ممکن ہو تو فیملی میں مشترکہ وقت گزارنے کی کوشش کریں تاکہ بچوں کو احساسِ تعلق اور تحفظ ملے۔
ایک تحقیق پڑھ رہا تھا اس کے مطابق، والدین کی موثر نگرانی اور بچوں کے ساتھ کھلی بات چیت نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچا سکتی ہے۔
جو نوجوان ان چیزوں کا شکار ہو چکے ہیں اور ان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور زیادہ اس میں انوالو ہو رہے ہیں تو ان کے لیے بھی کچھ مشورے ہیں کہ کیسے وہ اس نیوڈٹی والے زون سے باہر آ سکتے ہیں
دیکھیں کوشش کرنے سے سب کچھ ممکن ہے اگر اپ اس چیز کا شکار ہو چکے ہیں تو اپ خود سے اگر کوشش کریں تو اپ اس سے نکل بھی سکتے ہیں
نوجوانوں کے لیے مشورے
•اگر آپ نوجوان ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ آپ بھی غلط رول ماڈلز کی تقلید کر رہے ہیں، تو پہلا قدم یہ ہے کہ اس حقیقت کو قبول کریں۔
•اپنی اصل شناخت کو پہچانیں، اپنی ثقافت، مذہب اور اخلاقیات کو مقدم رکھیں۔
•سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں اور اپنی زندگی میں تعمیری سرگرمیوں کو شامل کریں۔
•ایسے دوست بنائیں جو آپ کے مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
•اگر خود سے باہر نکلنا مشکل ہو تو والدین، اساتذہ یا کسی قابلِ اعتماد بزرگ سے مدد طلب کریں۔
•ایڈکشن سے بچاؤ اور نجات کے طریقے
•غلط رول ماڈلز کی تقلید ایک قسم کی ذہنی اور جذباتی عادت یا ایڈکشن بن جاتی ہے، جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
•اس ایڈکشن سے نکلنے کے لیے پہلے اعتراف کریں کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے۔
•سوشل میڈیا سے وقفہ لیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائیں۔
•نئی مہارتیں سیکھیں، مطالعہ کریں اور صحت مند مشاغل اپنائیں۔
•اپنی سوچ کو بدلیں اور ہر چیز پر سوال اٹھائیں۔
•اگر ضرورت ہو تو ماہر نفسیات یا مشاورتی مرکز سے رجوع کریں۔
نوجوان ہمارے ملک اور معاشرے کا مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے ان کی رہنمائی نہ کی تو غلط رول ماڈلز اور وائرل کلچر کے منفی اثرات سے ہماری آنے والی نسلیں مشکلات کا شکار ہوں گی۔ والدین، اساتذہ اور سماجی رہنما سب کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو صحیح راہ دکھائیں تاکہ وہ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکیں اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو بے حیائی، فحاشی، اور گمراہی کے ان راستوں سے محفوظ فرمائے جن کی تشہیر سوشل میڈیا پر بے لگام ہو چکی ہے۔ اے اللّٰہ! جو لوگ اس فتنے کا شکار ہو چکے ہیں، ان کے دلوں کو ہدایت عطا فرما اور انہیں سچائی کی طرف واپس لوٹا دے۔ اور جو اس فتنے کے پھیلانے والے ہیں، یا تو ان کے دلوں کو بدل دے یا ان کی چالوں کو ناکام بنا دے۔ ہمیں حق کو پہچاننے اور
اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
وما علينا الا البلاغ المبين

0 تبصرے