بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
غصہ، انا، اور رشتے - ایک ایسا سچ جو آپ کو رُلا دے گا | جذباتی فیصلوں کا انجام؟
✍️ تحریر:- ارسلان تارڑ
زندگی میں ہم سب ایسے کئی لمحات سے گزرتے ہیں، جب دل بوجھل ہوتا ہے، آنکھیں غصے سے لال، دماغ سن اور دل صرف ایک بات کہتا ہے: "اب بس! بہت ہو گیا!"
کبھی کسی قریبی دوست سے لڑائی ہو جاتی ہے، کبھی گھر والوں کی کوئی بات دل پر لگ جاتی ہے، تو کبھی معمولی جھگڑا دل کو چیر کے رکھ دیتا ہے۔ ان لمحوں میں جو فیصلہ ہم کرتے ہیں، وہ اکثر وقتی ہوتا ہے لیکن اس کا انجام… عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔
❗ جذبات میں لیا گیا فیصلہ کیوں خطرناک ہوتا ہے؟
جب انسان جذبات میں ہوتا ہے — چاہے وہ غصہ ہو، دُکھ ہو، یا شدتِ محبت — اُس وقت اس کا دماغ فیصلہ کرنے کی صلاحیت تقریباً کھو دیتا ہے۔
ہم جو فیصلہ لیتے ہیں، وہ دل سے ہوتا ہے، اور دل اکثر جوش میں ہوتا ہے، ہوش میں نہیں۔
مثلاً، گھر میں کسی بات پر والدین سے تلخ کلامی ہو گئی۔
ہم فوراً بیگ اٹھاتے ہیں، دروازہ زور سے بند کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
"اب میں کبھی واپس نہیں آؤں گا!"
اس لمحے ہمیں یہ نہیں یاد رہتا کہ یہی وہ ماں ہے جس نے ہمیں گود میں سلایا، یہی وہ باپ ہے جس نے اپنی زندگی کی محنت ہمارے قدموں میں رکھ دی۔
ہمیں یاد نہیں رہتا کہ یہی وہ گھر ہے جہاں سے ہمیں تحفظ، محبت اور پیار ملا۔
بس ہم جذبات میں آ کر کوئی نہ کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔
😢 جب وقت گزر جاتا ہے، اور احساس جاگتا ہے
وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماں جسے غصے میں چھوڑا، وہ باپ جسے دل کی بات کہے بغیر چھوڑ دیا — وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتے ہیں۔
اور پھر ہم ہاتھ ملتے ہیں…
پھر ہم تصویریں دیکھتے ہیں، آوازیں سننے کی کوشش کرتے ہیں، اور دل میں صرف ایک آواز گونجتی ہے:
- "کاش اُس دن میں چپ رہتا…"
- "کاش میں واپس پلٹ آتا…"
- "کاش میں نے وہ فیصلہ نہ کیا ہوتا…"
مگر کاش… صرف ایک لفظ بن جاتا ہے… جو کبھی حقیقت نہیں بن پاتا۔
💬 ایک سچی کہانی (فرضی، مگر حقیقت سے قریب)
ندیم ایک 22 سالہ نوجوان تھا۔ پڑھائی مکمل کر چکا تھا اور نوکری کی تلاش میں تھا۔
گھر کا ماحول عام سا تھا، کبھی ہنسی خوشی، کبھی چھوٹی موٹی بحث۔ ندیم کی ماں تھوڑی حساس طبیعت کی تھیں، وہ ہر بات پر فکر کرتی تھیں — خاص طور پر ندیم کی رات دیر سے گھر آنے کی عادت پر۔
واقعہ: ایک رات ندیم دیر سے گھر آیا، ماں نے دروازہ کھولا، چہرے پر پریشانی تھی۔
جیسے ہی ندیم اندر داخل ہوا، ماں بولیں:
"بیٹا، میں کب سے جاگ رہی ہوں، تمہیں کتنی بار کہا ہے اتنی دیر نہ کیا کرو۔"
ندیم کا موڈ خراب تھا، تھکا ہوا بھی تھا۔ وہ بپھر گیا:
"کیا میں بچہ ہوں؟ ہر وقت روک ٹوک، ہر وقت ٹوکنا بند کرو!"
ماں خاموش ہو گئیں، مگر آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ندیم نے غصے میں بیگ اٹھایا، دروازہ زور سے بند کیا اور گھر سے نکل گیا۔
"اب میں کبھی واپس نہیں آؤں گا!" — جاتے جاتے یہ آخری الفاظ تھے۔
ندیم نے اگلے دن اپنے ماموں کے گھر جا کر پناہ لی۔
نہ فون کیا، نہ پیغام بھیجا۔ دو سال تک گھر سے مکمل تعلق ختم رکھا۔
کبھی دل چاہا بھی، تو انا آڑے آ گئی۔
پچھتاوا: پھر ایک دن اچانک ماموں نے اُسے صبح جگایا، چہرے پر افسردگی تھی:
"ندیم… بیٹا… تمہاری ماں اب نہیں رہی…"
ندیم کو ایسا لگا جیسے دنیا تھم گئی ہو۔
بغیر وقت ضائع کیے وہ گھر پہنچا — جہاں جنازہ تیار تھا۔
سفید چادر میں لپٹی وہ ماں، جسے اُس نے صرف جذباتی ہو کر چھوڑ دیا تھا…
اب ہمیشہ کے لیے خاموش تھی۔
ندیم پھوٹ پھوٹ کر رویا، ماں کے قدموں سے لپٹ گیا،
مگر اب کوئی جواب نہیں تھا۔
💔 آج بھی…
ندیم اکثر ماں کی قبر پر جاتا ہے، بیٹھتا ہے، خاموش رہتا ہے۔
کبھی کبھی آہستہ سے کہتا ہے:
"امی… میں واپس آ گیا ہوں… مجھے معاف کر دیں… میں جذبات میں آ کر آپ کو چھوڑ آیا تھا…"
مگر اب صرف ہوا کی سرگوشی ہوتی ہے…
اور ندیم کی خاموش آنکھوں سے بہتے آنسو۔
💡 پھر کیا کریں؟ جذبات پر قابو کیسے پائیں؟
دیکھیں، غلطی ہو جانا بڑی بات نہیں ہوتی۔ غلطی ہر انسان سے ہو جاتی ہے لیکن اس غلطی کو جلد سدھار لینا — یہ بہت عقلمندی کی بات ہے۔
ہم سب انسان ہیں، غصہ آتا ہے، دکھ ہوتا ہے، دل ٹوٹتا ہے — یہ فطری بات ہے۔
لیکن زندگی کا اصل ہنر یہ ہے کہ:
"جذبات کو تسلیم کریں، مگر ان میں بہہ کر فیصلے نہ کریں!"
جب کبھی غصہ آئے، یا دل میں طوفان ہو، تو خود سے ایک سوال کریں:
"کیا میں ابھی جذباتی ہو رہا ہوں؟"
اگر جواب ہاں ہے، تو بس رُک جائیں۔
وما علينا الا البلاغ المبين


0 تبصرے