🧠 نوجوان کیوں تھک گئے ہیں؟ — وہ تھکن جو نیند سے بھی نہیں جاتی!
بسم اللہ الرحمن الرحیم
✍️ تحریر: ارسلان تارڑ
"رات کو وقت پر سو گیا، آٹھ گھنٹے کی نیند بھی لی… مگر صبح پھر بھی اٹھا تو لگا جیسے کوئی بوجھ اٹھا رکھا ہے۔"
یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں یہ ایک پوری نسل کا درد ہے، جو چپ چاپ اپنے کندھوں پر بوجھ اٹھائے جی رہی ہے۔
یہ تھکن جسم کی نہیں ہے۔ یہ تھکن دل کی ہے، دماغ کی ہے، روح کی ہے وہ تھکن جو ہڈیوں میں نہیں، وجود کے اندر گونجتی ہے۔
یہ وہ تھکن ہے جس کا کوئی علاج گولی، نیند یا ویک اینڈ نہیں دے سکتا… کیونکہ یہ تھکن باہر سے نہیں، اندر سے پیدا ہوتی ہے۔
🌪️ جذباتی اور ذہنی تھکن — ایک ایسی جنگ جو کوئی دیکھتا بھی نہیں، سنتا بھی نہیں
چہرے پر مسکراہٹ، آنکھوں میں چمک، انسٹاگرام پر لائف "پرفیکٹ"… لیکن اندر؟
اندر وہ شور ہے جس کی آواز صرف خود کو سنائی دیتی ہے۔ اندر وہ تھکن ہے جو لفظوں میں نہیں سماتی، بس سانسوں میں محسوس ہوتی ہے۔
ہم ہر دن ایک نئی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں
- کبھی اس لیے کہ ہم دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں،
- کبھی اس لیے کہ ماں باپ کو فخر محسوس ہو،
- اور کبھی اس لیے کہ ہم خود کو "کچھ" ثابت کر سکیں۔
لیکن اس دوڑ میں، ہم خود کو کھو بیٹھتے ہیں۔
ہم وہ "ہم" نہیں رہتے جو کبھی خواب دیکھتے تھے… ہم بس ایک روبوٹ بن جاتے ہیں جو صبح سے رات تک صرف expectations پوری کرنے کے لیے چل رہا ہوتا ہے۔
❝ آج کا نوجوان نیند سے زیادہ "سکون" کا پیاسا ہے ❞
وہ سکون جو دل کو تھام لے، جو دماغ کو چپ کرا دے، جو روح کو ایک لمحے کے لیے سانس لینے دے۔
🎓 15 سے 18 سال — وہ نازک دور جب خواب بنتے بھی ہیں، اور ٹوٹتے بھی
یہ عمر باہر سے تو صرف "سٹوڈنٹ لائف" لگتی ہے… مگر اندر سے یہ زندگی کے سب سے بھاری فیصلوں کا دور ہوتا ہے۔
- – میٹرک ختم ہوا تو سوال آ گیا: "اب کیا؟"
- – ایف ایس سی شروع کیا تو confusion: "پری میڈیکل یا انجینئرنگ؟"
- آئی سی ایس یا آئی کام والے تو ہر ہفتے سوچتے ہیں: "شاید یہ فیلڈ میرے لیے نہیں تھی؟"
یہ فیصلے صرف نصاب کے نہیں ہوتے، یہ فیصلے ایک پوری زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔
اور ان فیصلوں کے پیچھے صرف ہمارے خواب نہیں ہوتے — ہمارے ماں باپ کی دعائیں، سوسائٹی کی نظریں، اور ہمارے اپنے اندر کی بےچینی بھی ہوتی ہے۔
اکثر نوجوان سونے سے پہلے سوچتے ہیں:
- "کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں؟"
- "اگر یہ سب غلط نکلا تو؟"
- "کیا میں کسی کے قابل بھی بن پاؤں گا؟"
یہ وہ سوالات ہیں جو رات کو سونے نہیں دیتے، اور صبح کو اُٹھنے کا حوصلہ بھی نہیں دیتے۔
📱 سوشل میڈیا — وہ دنیا جہاں سب خوش نظر آتے ہیں… سوائے تمہارے
ہر نوجوان کے ہاتھ میں ایک فون ہے، مگر دل میں خالی پن ہے۔
تم فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک کھولتے ہو — اور ہر طرف "کامیاب" لوگوں کی کہانیاں دیکھتے ہو:
- – وہ دوست جو باہر کے ملک چلا گیا،
- – وہ کزن جو ہر مہینے نیا فون لے آتا ہے،
- – وہ class fellow جو startup کر کے امیر ہو چکا ہے۔
تم ان سب کو دیکھتے ہو، اور تمہارا دل آہستہ سے کہتا ہے:
- "میں ویسا کیوں نہیں ہوں؟"
- "میرے ساتھ سب کچھ سلو کیوں چل رہا ہے؟"
- "کیا میں کبھی آگے نکل پاؤں گا؟"
تمہاری خود اعتمادی ٹوٹنے لگتی ہے۔ تمہاری ذات سے محبت ختم ہونے لگتی ہے۔
تم اپنا موازنہ اُن لوگوں سے کرنے لگتے ہو جن کی اصل حقیقت تمہیں معلوم بھی نہیں۔
سوشل میڈیا مسلسل دیکھنا نوجوانوں کے لیے ایک ذہنی زہر بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف anxiety کو بڑھاتا ہے، بلکہ self-worth کو چُرا لیتا ہے۔
😔 Overthinking — ایک چھپا ہوا طوفان جو اندر ہی اندر سب کچھ اجاڑ دیتا ہے
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تم ایک پرسکون رات میں بستر پر لیٹے ہوتے ہو، مگر تمہارا دماغ چیخ رہا ہوتا ہے:
- – "اگر میں ناکام ہو گیا تو؟"
- – "اگر سب نے مجھے چھوڑ دیا تو؟"
- – "اگر میں ساری زندگی یونہی خالی خالی رہا تو؟"
یہ سوالات صرف خیالات نہیں، یہ اندر سے توانائی نچوڑ دینے والے سائے ہیں۔
تم باہر سے مسکرا رہے ہوتے ہو، سب کو لگتا ہے تم خوش ہو — مگر اندر ایک خلا، ایک ٹوٹا ہوا پن، ایک بے نام سی اداسی تمہارے ساتھ چپکی ہوتی ہے۔
یہی Overthinking ہے — وہ بیماری جو تمہارے اندر تم سے ہی جنگ لڑتی ہے، اور تمہیں تھکا دیتی ہے… بے حد، بے آواز، بے رحم۔
✅ حل: روح کی تھکن کا علاج ممکن ہے
اب بات کرتے ہیں حل کی۔
اور یہ حل کوئی لمبا لیکچر نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے عمل ہیں جو تمہیں دوبارہ زندہ محسوس کروا سکتے ہیں۔
🕌 نماز اور اذکار – دل و دماغ کا اصل سکون
میں ذاتی طور پر یہی مشورہ دوں گا کہ آپ پانچ وقت کی نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ نماز صرف ایک فریضہ نہیں بلکہ زندگی میں ترتیب، روحانیت، اور اطمینان کا ذریعہ ہے۔ نماز وہ لمحہ ہے جب آپ دنیا سے جڑنے کے بجائے اپنے خالق سے جڑتے ہیں، اور اسی تعلق سے دل کو قرار نصیب ہوتا ہے۔
اسی طرح صبح اور شام کے اذکار کو اپنا معمول بنائیں۔ یہ اذکار آپ کے دن کو اللہ کے ذکر سے شروع کرنے اور ختم کرنے کا ایک محفوظ حصار بناتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کلمات روحانی طور پر انسان کو تازہ دم رکھتے ہیں۔ جب دن کی ابتدا نماز فجر اور اذکار سے ہوتی ہے، تو سارا دن اندرونی طور پر ایک سکون اور فریشنیس کے ساتھ گزرتا ہے۔
🚶♂️ صبح کی سیر – جسم کو بھی سانس لینے دو
میں اپ کو ذاتی طور پر یہ مشورہ دوں گا کہ نماز فجر کے بعد چند منٹوں کے لیے سیر پر نکلیں۔ یہ وقت جب دنیا ابھی خاموش ہو، فضا میں تازگی ہو، اور سورج نکلنے کو ہو، ایک روحانی تجربہ بن جاتا ہے۔ یہ نہ صرف جسم کے لیے مفید ہے بلکہ ذہن پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔ درختوں کی سرسبزی، پرندوں کی چہچہاہٹ، اور خالی سڑکیں — یہ سب مل کر اندر کی الجھنوں کو سلجھاتے ہیں۔ تھوڑی سی ہلکی واک، گہرے سانس، اور قدرتی مناظر دل و دماغ کی الجھنوں کو کم کر دیتے ہیں۔
🧘 "ڈیجیٹل فاسٹنگ" – روز تھوڑی دیر فون سے ناطہ توڑو
دن میں کم از کم ایک گھنٹہ ایسا مقرر کریں جس میں موبائل، سوشل میڈیا، اور اسکرین سے دوری اختیار کریں۔ مسلسل اسکرین پر نظر رکھنے سے دماغ کو آرام کا موقع نہیں ملتا، اور ہم انجانے میں مسلسل comparison اور pressure میں جیتے ہیں۔ اس ایک گھنٹے میں آپ اپنے اندر جھانک سکتے ہیں، اپنے جذبات کو سمجھ سکتے ہیں، اور زندگی کے شور سے تھوڑی دیر کے لیے نکل سکتے ہیں۔ یہ وقت آپ کی inner recharge کے لیے نہایت ضروری ہے۔
💬 بات کرنا سیکھو – "ٹھیک ہوں" کافی نہیں ہوتا
ہمارے معاشرے میں جذبات کا اظہار کرنا کمزوری سمجھا جاتا ہے، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ جذبات کو دبا دینا اندرونی تھکن کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہے۔ کسی قریبی دوست، بہن بھائی یا والدین سے دل کی بات شیئر کریں۔ اگر ممکن نہ ہو، تو اپنے احساسات کو لکھ لیں۔ ایک ڈائری رکھیں، جس میں روزانہ دل کی باتیں لکھا کریں۔ یہ عمل نہایت سادہ مگر اثر انگیز ہے، جو آپ کو ہلکا محسوس کرواتا ہے۔
اور اپنے جذبات اپنی پریشانیاں اپنے مسائل کو اللہ کے سامنے رکھیں اللہ کے حضور پیش کریں دعا میں گڑگڑائیں اور اللہ تعالی سے مدد طلب کریں۔
📚 Self-Paced Learning – زندگی ریس نہیں، سفر ہے
ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ جو آگے نکل گیا وہی کامیاب ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ جو آج کامیاب ہے وہ کبھی ناکام بھی رہا ہوگا۔ اس لیے اپنی رفتار پر چلیں، خود کو سمجھیں، اور خود سے موازنہ کریں، دوسروں سے نہیں۔ ہر دن ایک نیا موقع ہے سیکھنے کا، گرنے کا، سنبھلنے کا۔ کامیابی کی کوئی "درست عمر" یا "صحیح وقت" نہیں ہوتا۔
❤️ آخری بات: تم اکیلے نہیں ہو
اگر تم تھکے ہوئے ہو، تو یاد رکھو: یہ تھکن عارضی ہے۔
تمہاری قدر، تمہاری پہچان، صرف تمہاری ڈگری یا ویوز سے نہیں — بلکہ تمہارے وجود سے ہے۔
اپنے اندر کے شور کو خاموش کرو، ایک لمحہ رکو، اور پیار سے خود کو سنبھالو۔
اپنے اس بھائی ارسلان تارڑ کو بھی دعاؤں میں یاد رکھنا🤝🏻❤️
والسلام
🔖 Keywords / SEO Tags:
نیند کے بعد بھی تھکاوٹ، ذہنی دباؤ کیسے کم کریں، نوجوانوں کی زندگی کے مسائل، سوشل میڈیا اور ذہنی صحت، اوور تھنکنگ کا حل، نماز اور ذہنی سکون



0 تبصرے