کامیابی رٹہ سے نہیں، سوچ سے آتی ہے! طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے لمحہ فکر | رٹا سسٹم کے نقصانات اور اس کا حل

کامیابی رٹہ سے نہیں، سوچ سے آتی ہے! طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے لمحہ فکر | رٹا سسٹم کے نقصانات اور اس کا حل

Rata System vs Conceptual Learning - Education System Pakistan

کامیابی رٹہ سے نہیں، سوچ سے آتی ہے! رٹا سسٹم کے نقصانات اور اس کا حل

✍️ تحریر:- ارسلان تارڑ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

پاکستان کا تعلیمی نظام زیادہ تر رٹے پر مبنی ہے۔ طلبہ کچھ نیا سیکھنے کے بجائے صرف نمبر لینے کی خاطر کتابوں کو زبانی یاد کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امتحان کے بعد ذہن میں اصل علم موجود نہیں ہوتا۔ رٹا لگانا دراصل ایک عارضی حل ہے جو طویل مدتی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

⚠️ رٹہ سسٹم کے نقصانات

  • 1. سوچنے کی صلاحیت کا خاتمہ: طلبہ میں تنقیدی سوچ ختم ہو جاتی ہے اور وہ لکیر کے فقیر بن کر رہ جاتے ہیں۔
  • 2. اصل تعلیم سے دوری: یہ علم وقتی ہوتا ہے، امتحان ختم ہوتے ہی سب کچھ بھول جاتا ہے کیونکہ اسے سمجھا نہیں گیا ہوتا۔
  • 3. تخلیقی صلاحیتوں کا قتل: رٹا سسٹم بچوں کے اندر تحقیق اور نئے مسائل تلاش کرنے کی جستجو کو ختم کر دیتا ہے۔
  • 4. اعتماد کی کمی: ڈگریاں تو مل جاتی ہیں، لیکن عملی زندگی کے چیلنجز سامنے آنے پر طالب علم خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔

✅ رٹہ سسٹم کا حل – اصلاحات

1. ذہنی صلاحیت کی بنیاد پر جانچ: امتحانی نظام صرف نمبروں پر نہیں بلکہ پروجیکٹ بیسڈ لرننگ اور پریزنٹیشنز پر مبنی ہونا چاہیے۔

2. اساتذہ کی جدید تربیت: اساتذہ کو چاہیے کہ وہ کلاس روم کو ورکشاپ میں بدل دیں جہاں بچے سوال کرنا سیکھیں۔

3. عملی مواد (Practical Work): نصاب میں تھیوری سے زیادہ لیب ورک اور اصل پراجیکٹس کو جگہ دی جائے۔

4. والدین کی آگاہی: والدین کو سمجھنا ہوگا کہ صرف 'اے پلس' گریڈ ذہانت کی علامت نہیں، بلکہ ہنر اور سیکھنے کا جذبہ اصل کامیابی ہے۔

5. ڈیجیٹل اسکلز: دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق کوڈنگ، AI، اور گرافک ڈیزائن جیسے کورسز اسکول کی سطح پر شروع کیے جائیں۔

💡 میرے پیارے طالب علم بھائیو! نمبر لینا ضروری ہے، لیکن جو کچھ پڑھیں اسے سمجھ کر ذہن نشین کریں۔ تاکہ آپ ایک باعمل اور تخلیقی انسان بن سکیں۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین 🤲

والسلام

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے