پرنسپل کی بدتمیزی، سگریٹ کا دھواں اور میری شرمندگی — والدین سے ایک سوال

پرنسپل کی بدتمیزی، سگریٹ کا دھواں اور میری شرمندگی — والدین سے ایک سوال

پرنسپل کی بدتمیزی، سگریٹ کا دھواں اور میری شرمندگی — والدین سے ایک سوال

✍️ تحریر:- ارسلان تارڑ

میں یہ سمجھتا ہوں کہ بچوں کے تعلیمی ادارے صرف کتابیں پڑھانے کی جگہ نہیں ہوتے، بلکہ وہاں کے ماحول، اساتذہ کا رویہ، اور قیادت کا کردار بھی بچوں کی تربیت میں اہم ہوتا ہے۔ آج ایک ایسا تلخ واقعہ آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں جو مجھے جھنجھوڑ گیا، اور جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں والدین، طلباء اور تعلیمی ذمہ داران کے سامنے چند سوالات رکھوں۔

کافی دن پہلے کی بات ہے۔ میں اپنے چھوٹے کزن کا سرٹیفیکیٹ لینے اپنے پرانے اسکول گیا جہاں سے میں نے میٹرک کیا تھا۔ اب میں کالج میں ہوں لیکن چونکہ کزن ابھی اسی اسکول میں پڑھ رہا ہے، اس لیے ایک ضروری کام سے پرنسپل آفس جانا پڑا۔

میں ادب سے السلام کر کے اندر داخل ہوا، پرنسپل صاحب نے جواب دیا اور کہا کہ کلرک ابھی دفتر نہیں آئے، راستے میں ہیں، تھوڑا انتظار کریں۔ میں بیٹھ گیا۔ اسی دوران دو تین اور افراد بھی آفس میں موجود تھے۔

اچانک پرنسپل صاحب نے مجھ سے ایک انداز میں کہا، "چوہدری صاحب کو بھی جلدی تو ہو گی واپس جانے کی؟" میں نے ادب سے کہا، "جی سر، بس سٹڈی کی مصروفیت ہے اس کے علاوہ کوئی خاص مصروفیت نہیں۔" یہ سنتے ہی اُن کے لہجے میں ایک طنز بھر آیا۔

کہنے لگے، "او یار کیسی سٹڈی، آج کل کے نوجوان جو سٹڈی کرتے ہیں نا، سارا دن موبائل اور فیس بک کی بو*ڈ مارتے رہتے ہیں۔" (یہ اُن کے الفاظ ہیں، نہایت معذرت کے ساتھ نقل کر رہا ہوں)

میں چپ رہا۔ میرے اردگرد جو دیگر حضرات بیٹھے تھے، وہ بھی تھوڑا مسکرائے، لیکن میں نے خاموشی کو بہتر جانا کیونکہ ادب کا تقاضا یہی تھا۔

اس کے بعد انہوں نے ایک طویل لیکچر جھاڑنا شروع کیا: "تم کالج جاتے ہو تو تمہیں چاہیے کہ لائبریری میں بیٹھو، رسالے پڑھو، کتابوں میں گم رہو، جو کچھ پڑھو اس کا مطلب سمجھو، مقصد تلاش کرو۔" باتیں بظاہر اچھی تھیں، لیکن انداز نہایت عجیب اور زہریلا تھا۔

اور اس دوران، پرنسپل صاحب کے ہاتھ میں سگریٹ تھا، وہ کش پر کش لگاتے جا رہے تھے۔ یعنی وہ شخص جو ہمیں تربیت دینے کی باتیں کر رہا تھا، خود پرنسپل آفس میں سگریٹ نوشی کر رہا تھا۔ یہ منظر بہت کچھ بول رہا تھا، بس سننے والا چاہیے تھا۔

پھر انہوں نے ایک نویں جماعت کی کتاب میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا، "اسے پڑھو، دیکھو نیا سلیبس کیا آیا ہے۔ اسٹوڈنٹ ہو، فارغ مت بیٹھو۔" میں نے صرف "جی سر" کہا اور کتاب کھول لی، لیکن دل میں سوالات کا طوفان تھا۔

اور اس کے بعد وہ قریب بیٹھے دوسرے آدمیوں سے اپنی قابلیت اور اپنی تعریفیں جھاڑنے لگے۔ کہتے ہیں فلاں سکول میں بورڈ ایگزامز پر فلاں بندے کی ڈیوٹی میں نے لگوائی ہے۔ بہت سے لوگ مجھ سے بورڈ کے رزلٹ میں نمبر بڑھانے کے لیے رابطہ کرتے ہیں میں ان کے نمبر بڑھا دیتا ہوں مطلب رزلٹ کارڈ پر۔ میں نے کبھی اپنے بچوں کے نمبر نہیں لگاوائے وغیرہ وغیرہ

آخرکار کلرک آ گئے، نہایت مہذب انداز میں پیش آئے، کام فوراً کیا، سرٹیفیکیٹ دیا، شکریہ ادا کر کے میں باہر آ گیا۔ باہر نکلتے ہی میری ملاقات کچھ پرانے اساتذہ سے ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاقی سے ملے، دعائیں دیں، حال چال پوچھا، دل کو سکون ملا کہ اب بھی ایسے استاد موجود ہیں جو حقیقی معنوں میں استاد کہلانے کے لائق ہیں۔

لیکن پرنسپل صاحب کا رویہ؟ ان سے میری ماضی کی تلخ یادیں بھی وابستہ ہیں۔ جب میں اس سکول میں پڑھتا تھا تو کئی مرتبہ چھٹی لینے کی ضرورت پڑی، کبھی کسی شادی کے باعث، کبھی کسی مجبوری کی وجہ سے۔ ہر بار باقاعدہ اطلاع دے کر چھٹی کی، لیکن پرنسپل صاحب ہمیشہ ایک طعنہ ضرور دیتے تھے: "یار تم تو بہت چھٹیاں کرتے ہو۔" یہاں تک کہ ایک بار میرے والد، جو کہ عمان میں ہوتے ہیں، انہیں فون کر کے شکایت کر دی گئی کہ "آپ کا بچہ بہت چھٹیاں کرتا ہے۔"

حالانکہ دوسرے طلباء اکثر بغیر اطلاع کے چھٹیاں کرتے تھے، لیکن اُن پر کوئی سوال نہ اٹھایا گیا، نہ کبھی ان کے والدین کو فون کیا گیا۔ پتہ ہے کیوں؟ چونکہ اس بارے میں انہیں علم ہی نہیں ہوتا تھا اس لیے وہ ان سے نہ پوچھتے تھے اور نہ کوئی سوال کرتے تھے۔ لگتا تھا کہ جو بچہ سچ بولتا ہے، وہی نشانہ بنتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ کیسے تعلیمی اداروں کی قیادت کر رہے ہیں؟ ایک پرنسپل، جو سگریٹ پیتے ہوئے اپنے دفتر میں دوسروں پر لیکچر جھاڑتا ہے ہے، جو طنز اور بدتمیزی کو نصیحت کے لباس میں لپیٹ کر بچوں پر پھینکتا ہے، کیا وہ واقعی ایک رول ماڈل ہو سکتا ہے؟

یہ بلاگ صرف ایک شکایت نہیں ہے، بلکہ ایک درخواست ہے، خصوصاً والدین سے:

براہِ کرم، اپنے بچوں کے اسکول پر بھروسہ کرنے سے پہلے وہاں کے ماحول کا جائزہ لیں۔ پرنسپل، اساتذہ، اور دیگر اسٹاف سے ملیں۔ دیکھیں کہ کیا واقعی آپ کے بچے ایک محفوظ، مہذب اور تربیت یافتہ ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟

اور بچوں سے بھی پوچھیں۔ ان کے تجربات سنیں۔ کبھی کبھار ان کی خاموشی میں وہ صدائیں چھپی ہوتی ہیں جو چیخ کر بھی سنے نہیں جاتیں۔

تعلیم صرف نصاب کا نام نہیں، یہ ایک نظامِ تربیت ہے۔ اور اگر اس نظام کے سرے پر ہی زہر ہو، تو پھل کیسے میٹھا نکلے گا؟ ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے صرف ان کے سکول کی فیس ادا کر دینا کافی نہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً سکول جائیں، اساتذہ سے ملاقات کریں، انتظامیہ کا رویہ اور معیار خود دیکھیں۔ صرف بچوں کی سننے سے نہیں، ان کے ماحول کو سمجھنے سے ہی ہم اصل مسئلے تک پہنچ سکتے ہیں۔ میرے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ شاید بہت سوں کے ساتھ ہوتا ہو، مگر ہر کوئی بول نہیں پاتا۔ آج اگر ہم خاموش رہے تو کل ہمارے بچے سوال کریں گے کہ آپ نے ہماری تربیت میں کمی کہاں چھوڑی؟ آئیے، وقت پر جاگیں اور اپنے بچوں کو صرف تعلیم نہیں، عزت اور اعتماد کا ماحول بھی دیں۔

والسلام

Disclaimer

This article is based on my personal opinion and my personal experience. Its purpose is only to provide awareness, not to hurt anyone's feelings.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے