عید کی خوشیاں اور نوجوانوں کی خاموشیاں – سوشل میڈیا، خاندانی دباؤ اور نئی امیدیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم پیارے بھائیو! عید ایک ایسا تہوار ہے جو نہ صرف خوشیاں اور رونقیں لاتا ہے بلکہ رشتوں کی گرمجوشی، محبت اور قربانی کا پیغام بھی دیتا ہے۔ لیکن ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ جتنا یہ دن باہر سے روشن نظر آتا ہے، اتنا ہی بعض نوجوانوں کے لیے اندر سے بھاری ہوتا ہے۔ عید کی رونقوں میں کئی ایسی خاموشیاں بھی چھپی ہوتی ہیں جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
📸 1. سوشل میڈیا پر دکھاوے کی دنیا
عید کے دن سوشل میڈیا پر ایک مقابلہ سا چل رہا ہوتا ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ سب سے الگ نظر آئے، سب سے خوش اور کامیاب۔ ہیش ٹیگ **#EidVibes** اور **#FamilyGoals** کے پیچھے چھپی حقیقت اکثر تصویروں تک محدود ہوتی ہے۔ کئی نوجوان صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے مسکراتی تصویریں اپلوڈ کرتے ہیں، حالانکہ دل میں ایک خلا سا ہوتا ہے۔
🧠 2. خاندانی سوالات کا بوجھ
پاکستان میں عید کی فیملی گیدرنگز نوجوانوں کے لیے اکثر ایک امتحان بن جاتی ہیں۔ جب رشتہ دار پوچھتے ہیں:
- "اگلا سٹیپ کیا ہے؟"
- "کیا بنا تمھارے رزلٹ کا؟"
- "کب شادی کر رہے ہو؟"
- "جاب مل گئی یا نہیں؟"
یہ سوالات نوجوانوں پر ذہنی دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے وہ خوشی کے بجائے انزائٹی (Anxiety) محسوس کرنے لگتے ہیں۔
🤯 3. خود کا موازنہ اور کم تر محسوس کرنا
دوسروں کی نئی گاڑی، مہنگے موبائل یا بڑے جانوروں کی تصویریں دیکھ کر نوجوانوں کے دل میں احساسِ کمتری پیدا ہونا عام ہے۔ یہ موازنہ ان کی خود اعتمادی کو کمزور کرتا ہے۔ وہ اپنی اصل صلاحیت کو پہچاننے کی بجائے، دوسروں جیسا بننے کی حسرت میں لگ جاتے ہیں۔
💔 4. پوشیدہ احساسات – تنہائی اور محرومی
بہت سے نوجوان ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی پیارے کو کھو چکے ہوتے ہیں یا خاندان سے دور ہوتے ہیں۔ ان کی تنہائی کی کوئی تصویر نہیں ہوتی، کوئی ہیش ٹیگ نہیں ہوتا، مگر ان کا دکھ سب سے گہرا ہوتا ہے۔
🕊️ 5. عید کے بعد نئی شروعات – ایک موقع
عید کا اصل پیغام قربانی ہے – اپنے اندر کی منفی سوچوں اور حسد کی قربانی۔ یہ وقت ہے خود کو دوبارہ شروع کرنے کا۔
- روحانیت: نماز، دعا اور قرآن سے جڑنا دل کو سکون دیتا ہے۔
- کمیونٹی: کسی رفاہی کام میں شامل ہوں، دوسروں کی مدد کریں۔
- نئی اسکلز: کوڈنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ یا بلاگنگ جیسی جدید مہارتیں سیکھیں۔
- جرنلنگ: اپنے جذبات اور خوابوں کو ڈائری میں لکھیں۔
📢 6. سوسائٹی کو کیا کرنا چاہیے؟
سوسائٹی کو نوجوانوں کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے:
- میڈیا کو صرف دکھاوا نہیں، اصل انسانی مسائل دکھانے چاہئیں۔
- اسکولوں میں مینٹل ہیلتھ (ذہنی صحت) پر سیشنز ہونے چاہئیں۔
- والدین کو بچوں کی خاموشی سمجھنی چاہیے، نہ کہ ان پر سوالات کی بوچھاڑ کرنی چاہیے۔
💬 یاد رکھیں، اصل عید تب ہوتی ہے جب ہم اندر سے مطمئن ہوں اور دوسروں کے بجائے خود سے خوش ہوں۔
نوجوانوں کی خاموشیوں کو سمجھنا اور ان کی خودی کو سہارا دینا ہماری سوسائٹی کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
🤲 دعا: اللہ تعالی مجھ سمیت آپ سب کو ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے اور آپ کی زندگی سے پریشانیوں، الجھنوں اور مصیبتوں کا خاتمہ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
والسلام


1 تبصرے
میرے خیال میں ابھی بھی اس پوسٹ میں کھل کر سب کچھ بیان نہیں کیا گیا برحال Awareness اچھی ہے
جواب دیںحذف کریں