❓ جب سوال کرنا جرم بن جائے: بچوں کی سوچ پر پابندیاں اور تعلیم کی بے معنویت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
✍️ تحریر:- ارسلان تارڑ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
💡 سوال کرنا: انسانی فطرت اور شعور کی بنیاد
بچپن انسان کی زندگی کا وہ حسین دور ہوتا ہے جہاں **تجسس، جستجو، اور سوالات کی بوچھاڑ** معمول کی بات ہوتی ہے۔ ایک بچہ جب کسی چیز کو پہلی بار دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں بے شمار سوالات جنم لیتے ہیں — یہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کیسے کام کرتا ہے؟
سوال کرنا صرف ایک عمل نہیں، یہ **انسانی شعور کی علامت** ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ پر نظر ڈالیں تو صحابہ کرامؓ کے سوالات کا سلسلہ کبھی نہیں رُکا۔ ان کے سوالات ہی علم کے دروازے کھولتے گئے، اور یہی طرزِ عمل آج ہمیں ترقی یافتہ اقوام میں بھی نظر آتا ہے۔
🛑 سوالات سے دوری: تعلیمی زوال کی جڑ
ہمارے ہاں بچوں کے سوالات اکثر والدین اور اساتذہ کو ناگوار گزرتے ہیں۔ اگر بچہ پوچھے کہ "اللہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟" تو والدین گھبرا جاتے ہیں۔ اگر وہ اسکول میں سوال کرے کہ "سر یہ فارمولا ایسے کیوں بنتا ہے؟"، تو استاد اسے چُپ کرا دیتا ہے۔
یہ طرزِ عمل بچوں کی تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیتوں کو دبا دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ بچہ سوچنا چھوڑ دیتا ہے، صرف **رٹنا سیکھتا ہے**۔
یونیسیف، یونیسکو اور دیگر تعلیمی اداروں کی رپورٹیں واضح طور پر کہتی ہیں کہ وہ بچے جو سوالات کرتے ہیں، وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں آگے ہوتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت زیادہ متوازن، خود اعتماد اور ذہنی طور پر مضبوط ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں تو "**رٹو طوطا**" بننے کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
📚 تعلیم کے مقصد کا زوال
جب سوال کرنا جرم بن جائے تو تعلیم کا مقصد صرف مارکس لینا، امتحان پاس کرنا اور نوکری حاصل کرنا رہ جاتا ہے۔ **اصل علم**، جو انسان کو معاشرے کا کارآمد فرد بناتا ہے، وہ کہیں گم ہو جاتا ہے۔ ایسے تعلیمی نظام سے نہ سائنسدان نکلتے ہیں، نہ مفکر، نہ مصلح اور نہ ہی قائد۔
حقیقی زندگی سے ایک مثال: میرے ایک کلاس فیلو نے ٹیچر سے پوچھا، "مس، اگر زمین گول ہے تو ہم نیچے کیوں نہیں گر جاتے؟" بجائے خوش ہونے کے، ٹیچر نے اسے سزا دے دی کہ "فضول باتیں مت کرو"۔ یہ سوال تو درحقیقت نیوٹن، گلیلیو اور آئن سٹائن جیسے سائنسدانوں کے دماغ میں آیا تھا۔
اگر جواب نہ آتا ہو تو بچے کو کہہ سکتے ہیں کہ:
"ابھی میں اس کا جواب آپ کو نہیں دے سکتا/سکتی، کل یا پرسوں آپ کو اس کا جواب مل جائے گا۔"
🧠 نفسیاتی اثرات: ایک خاموش المیہ
بچوں کو سوالات سے روکنا صرف ان کے تعلیمی نقصان کا باعث نہیں بنتا بلکہ ان کی **نفسیاتی صحت پر بھی گہرا اثر** ڈالتا ہے۔ بچے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، ان میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے، اور اکثر وہ زندگی بھر اپنے خیالات کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے گھبراتے ہیں۔
کئی نوجوان جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ایک عام میٹنگ میں بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں کیونکہ بچپن میں انھیں ہمیشہ یہ سکھایا گیا کہ "**چپ رہو، بڑوں کی باتوں میں مت بولو**"۔
🛠️ حل اور تجاویز: معاشرتی منظرنامہ، تبدیلی کی اشد ضرورت
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر سوال بدتمیزی نہیں ہوتا، ہر اختلاف بے ادبی نہیں ہوتا، اور ہر بحث گستاخی نہیں ہوتی۔
عملی اقدامات:
- والدین کا کردار: بچے کے سوال کو جھڑکنے کی بجائے **خوشی سے جواب دیں**۔ اگر جواب نہ آتا ہو تو بچے کے ساتھ تحقیق کریں تاکہ سیکھنے کا شوق پیدا ہو۔
- اساتذہ کی تربیت: اساتذہ کو صرف مضمون سکھانے والا نہیں، بلکہ رہنمائی کرنے والا ہونا چاہیے۔ ان کی تربیت میں **"سوالات کو مثبت لینا"** شامل کیا جائے۔
- نصاب میں تبدیلی: ہمیں نصاب میں ایسی تبدیلیاں کرنی ہوں گی جو **رٹنے کے بجائے سیکھنے پر زور** دیں۔ کہانیوں، تخیلاتی سوالات، اور پراجیکٹس کے ذریعے بچوں کے ذہن کھولے جا سکتے ہیں۔
- حکومتی سطح پر اصلاحات: تعلیمی پالیسی میں بچوں کی **ذہنی اور تخلیقی نشوونما** کو اولین ترجیح دی جائے۔
🚀 سوال کرنا ترقی کا پہلا زینہ
سوال کرنا کسی جرم کا نام نہیں بلکہ **انسانی ترقی کی بنیاد** ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ترقی کریں، کچھ نیا سوچیں، کچھ نیا بنائیں، تو ہمیں ان کے سوالات کو گلے لگانا ہوگا۔ کیونکہ ہر سوال ایک نیا دروازہ کھولتا ہے، اور ہر دروازے کے پیچھے ایک نئی دنیا چھپی ہوتی ہے۔
والسلام
اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا 🙏



0 تبصرے