📢 لوگوں کا ڈر: آپ کی کامیابی کا سب سے بڑا دشمن – اس سے بچیں اور ذہنی غلامی کا خاتمہ کریں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
✍️ تحریر: ارسلان تارڑ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا کبھی آپ نے دل سے کچھ کرنا چاہا ہو، لیکن ایک آواز اندر سے آئی ہو: **"یار، لوگ کیا کہیں گے؟"**
- میں اپنا کاروبار کرنا چاہتا ہوں، لیکن لوگ کیا کہیں گے؟
- میں ڈاکٹر نہیں، سافٹ ویئر انجینئر بننا چاہتا ہوں، لیکن لوگ کیا کہیں گے؟
یہ ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ہر شخص کی سوچ پر پڑی ہوئی ایک **زنجیر** ہے۔ ہم قدم بڑھانے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ **"میرا دل کیا چاہتا ہے؟"** بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ **"لوگ کیا کہیں گے؟"** اور یہی خوف، یہی ذہنی غلامی، ہمیں پیچھے دھکیلتی ہے۔
اگر آپ آج کا یہ بلاگ مکمل پڑھ لیتے ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ آپ آج کے بعد لوگوں سے نہیں ڈریں گے۔
❓ لوگوں کا ڈر پیدا کیوں ہوتا ہے؟ (وجوہات)
-
بچپن سے ذہن سازی:
ہمیں بچپن سے ہی سکھایا جاتا ہے کہ دوسروں کی باتوں کو اہمیت دو۔ "دیکھو فلاں کے بیٹے نے کیا کیا"، "لوگ ہنسیں گے"، "شرم کرو" – یہ جملے ہمارے دماغ میں بیٹھ جاتے ہیں۔
-
سماجی دباؤ اور مداخلت:
ہمارے معاشرے میں ہر شخص دوسرے کی زندگی میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم اپنی زندگی کے فیصلے اپنے اصولوں پر نہیں، بلکہ "لوگوں کی مرضی" پر کرتے ہیں۔
-
خود اعتمادی کی کمی:
جب انسان میں خود پر یقین نہ ہو، تو وہ دوسروں کے الفاظ سے ڈرتا ہے۔ ایک معمولی تبصرہ بھی اس کا حوصلہ توڑ دیتا ہے۔
-
ناکامی کا خوف:
ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے کچھ مختلف کیا اور ناکام ہو گئے، تو لوگ ہمارا مذاق اُڑائیں گے۔ اسی ڈر سے ہم کوشش ہی نہیں کرتے اور وہ قدم لینے سے دور بھاگ جاتے ہیں۔
🔑 لوگوں کے ڈر سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے؟
-
خوفِ خدا اپنائیں، نہ کہ خوفِ خلق:
"ڈرتے رہیں گے یوں ہی لوگوں سے زندگی بھر، خوفِ خدا جو پالا، تو لوگ کیا کہیں گے؟"
جب دل میں خدا کا خوف آ جائے، تو لوگوں کا خوف خود بخود نکل جاتا ہے۔ اگر آپ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہے، تو آپ کو لوگوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
-
اپنے فیصلے خود کریں:
اپنے اندر اتنا حوصلہ پیدا کریں کہ اپنے فیصلے اپنی سوچ اور اپنے اصولوں کے مطابق کریں۔ دوسروں کی بات سنیں ضرور، لیکن کریں وہی جو آپ کا دل کہتا ہے، جو آپ چاہتے ہیں۔ جب آپ اپنا فیصلہ خود کرنے لگیں گے، تو یہ سوچ ("لوگ کیا کہیں گے؟") خود بخود مٹ جائے گی۔
-
تنقید کو قبول کرنا سیکھیں:
اس دنیا کے لوگوں کو آپ کبھی راضی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ اچھا کریں گے، تب بھی لوگ بات کریں گے؛ اگر برا کریں گے، تب بھی۔ لہٰذا جو کرنا ہے، آپ اپنے دل سے کیجیے، خود فیصلہ کر کے کریں۔
لوگ کیا کہیں گے؟ والا مزاحیہ واقعہ (خلاصہ)
باپ بیٹا گدھے کے ساتھ سفر کر رہے تھے؛ کبھی پیدل چلے تو لوگوں نے کہا: **پاگل ہیں!** کبھی دونوں سوار ہوئے تو لوگوں نے کہا: **ظالم ہیں!** کبھی صرف باپ سوار ہوا تو کہا: **خودغرض باپ!** کبھی صرف بیٹا سوار ہوا تو کہا: **بے ادب بیٹا!** آخر میں دونوں نے گدھے کو ہی سر پر اٹھا لیا۔ اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ **لوگ آپ پر تنقید کرنے سے کبھی نہیں رکیں گے**۔
-
مثبت لوگوں سے جُڑیں:
ایسے لوگوں سے دوستی کریں جو آپ پر تنقید نہیں کرتے، بلکہ آپ کا حوصلہ بڑھاتے ہیں، آپ کی اصلاح کرتے ہیں، اور آپ کو آپ کی حقیقت میں قبول کرتے ہیں۔
💭 ایک لمحے کے لیے رکیں اور خود سے سوال کریں:
- کیا میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار رہا ہوں؟
- کیا میں صرف دوسروں کی خوشی کے لیے جیتا ہوں؟
- کیا مجھے اپنے خوابوں کی قربانی صرف اس لیے دینی ہے کہ کوئی کچھ کہے گا؟
یاد رکھیں! جو لوگ آپ پر ہنس رہے ہیں، وہ کل آپ کی کامیابی دیکھ کر خاموش ہو جائیں گے۔ خوف کا خاتمہ صرف تب ہوتا ہے، جب انسان خود کو پہچانتا ہے، اپنے رب پر یقین کرتا ہے، اور اپنی راہ پر چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے:
کیا آپ ہمیشہ دوسروں کے تبصروں کے غلام رہیں گے؟
یا آپ اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں گے؟
والسلام
.jpg)
.jpg)
0 تبصرے